روتے روتے مسکرانا چاہئیے
درد کو ایسے نبھانا چاہئیے
پا لیا حد سے سوا میں نے اسے
سوچتا ہوں اب گنوانا چاہئیے
پھر اسے آنا نہیں ہے لوٹ کر
پھر اسے کوئی بہانہ چاہئیے
چاہتا بھی ہے مجھے پھر کیوں اسے
ہر تعلق غائبانہ چاہئیے
کیوں مجھے اس کی طلب رہنے لگی
وہ جسے سارا زمانہ چاہئیے
عشق ہونادر حقیقت جیت ہے
اس میں سب کچھ ہار جانا چاہئیے
کر لیا تسلیم میں نے ہجر کو
اس کو لیکن آنا جانا چاہئیے
وہ پرانے زخم مجھ کو راس تھے
پھر مجھے چہرہ پرانا چاہئیے
زین شکیل