ساحرہ!
بھوک کتنی بھیانک ہوا کرتی ہے
میری معصوم اے صندلیں، باؤلی ساحرہ!
ضبط کی کوئی حد بھی اگر ہو تو شاید
اسے موت کہنا بجا ہے
بھلا کس لیے بھوک کی موت مرتے ہوئے لوگ،
دنیا میں موجود ان نعمتوں کو مقدر میں لکھوا کے لاتے نہیں؟
خودکشی جن کو آسان لگتی ہو
اور زندگی کی مسافت کٹھن
اور سنا ہے مقدر تو خود اپنی مرضی کا لکھا ہوا ہو تو سکتا نہیں
ایسا ہوتا اگر
تو مری ساحرہ!
ہر کوئی کائناتوں کی تقسیم کو لا پٹختا زمیں پر
یہ انساں قیامت کا خود غرض اور لالچی۔
بھوک بھی تو عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہے
اور عذاب آئیں تو
آسماں سے اترتی بلائیں یہ کب دیکھتی ہیں کہ کس کا
جنم اپنی مرضی مطابق ہوا
میں نے سڑکوں پہ
لاھور کی اور گجرات کی،
کتنی سڑکوں کے فٹ پاتھ پر
نیم جاں، ادھ مرے اور ہڈوں کا مجسمہ بنے
لاکھ ننگے بدن رینگتے جب بھی دیکھے
تو ایسا لگا
جیسے مجھ پر وہی بھوک کا سا عذاب آ گیا ہو
بھلا ایسے لوگوں کو کیسی تسلی،
بھلا کیا دلاسہ؟
اور ان کے وہ دھولوں اٹے جسم کی قدر و قیمت بھی کیا؟
یہ جنم بھی،
مری ساحرہ!
جس طرح سے عذابوں کی اقسام میں سے کوئی قسم ہو۔۔
زین شکیل