زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

سبھی موسم ہمارے ہیں چلے آؤ

سبھی موسم ہمارے ہیں چلے آؤ
ملن کے استعارے ہیں چلے آؤ
ہمیں شکوہ زمانے سے نہیں اب بھی
کہ ہم اب بھی تمہارے ہیں چلے آؤ
اداسی بین کرتی ہےتمہارے بن
کہاں اپنے گزارے ہیں چلے آؤ
مری آنکھیں بھی اب خوابوں سے خائف ہیں
خسارے ہی خسارے ہیں چلے آؤ
تمہیں ہم نے سلیقے سے بتانا ہے
تمہارے ہیں، تمہارے ہیں، چلے آؤ

زین شکیل