شام کا پہلا تارہ میں ہوں
رات کے دُکھ کا چارہ میں ہوں
میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے
تیرے بس میں سارا میں ہوں
آج تو سنجیدہ ہو جاتے
آج تمہارا سارا میں ہوں
جیت سکے ہو کب لوگوں سے
تم سے تو بس ہارامیں ہوں
حکم ہے رو کر ہنس دینے کا
اُس کا ایک اشارہ میں ہوں
زین مجھے اب کون سمیٹے
کب سے پارہ پارہ میں ہوں
زین شکیل