زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

تمام حرف بڑے ہی کرخت بولے تھے

تمام حرف بڑے ہی کرخت بولے تھے
ہمارے ساتھ مگر تم بھی سخت بولے تھے
مجھے تو شامِ جدائی وہ یاد ہے جب ہم
خموش دونوں تھے لیکن درخت بولے تھے
یہ اور بات کہ سویا رہا نصیب اپنا
ہمارے حق میں کئی اور بخت بولے تھے
تمہی نہیں تھے جسے سب سے منفرد کہتا
ہمارے ساتھ سبھی لوگ سخت بولے تھے
یہ زندگی ہے حقیقت میں زندگی لوگو
کہ سر تھا تن سے جدا، پھر بھی لخت بولے تھے

زین شکیل