تمہیں دل نے پکارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
کہاں تجھ بن گزارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
تمہارے بن رگوں میں زہر بھرتی ہے اداسی بھی
خسارہ ہی خسارہ ہے مجھے تم یاد آتے ہو
محبت نے لبادہ اوڑھ رکھا ہے فقیری کا
زمانہ کب گوارہ ہے مجھے تم یاد آتے ہو
محبت میں بھلا اسباب کیسے وسوسے کیسے
مرا سب کچھ تمہارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
مجھے تنہائیوں سے ڈر نہیں لگتا کہ اب مجھ کو
تمہارا ہی سہارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
وہ جتنے عکس تھے آنکھوں میں سارے بھول بیٹھا ہوں
تمہیں دل میں اتارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
زین شکیل