تمہیں یہ ظلم کرنا آ گیا ہے؟
محبت سے مکرنا آ گیا ہے؟
وہی بس! ہاں وہی! کرتی تھی جو تم
مجھے وہ جادو کرنا آ گیا ہے
خدا جانے یہ کیسے ہو گیا پر
مجھے دل میں اترنا آ گیا ہے
بتاؤ آئینے توڑے ہیں کتنے
تمہیں جو یوں سنورنا آ گیا ہے
تمہاری آس میں جیتے ہوئے اب
ہمیں بھی روز مرنا آ گیا ہے
وہاں سے اب گزرنا پڑ رہا ہے
جہاں تم کو ٹھہرنا آ گیا ہے
مجھے بھی تیری یادوں کی گلی میں
خموشی سے بکھرنا آ گیا ہے
زین شکیل