زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ترا وہ نگاہوں سے بولنا، نہیں بھولنا

ترا وہ نگاہوں سے بولنا، نہیں بھولنا
مری ہر نگاہ کو تولنا، نہیں بھولنا
یہ کلی کا کھِلنا تو خوب ہے مرے دوستا
مجھے اس کا آنکھوں کو کھولنا، نہیں بھولنا
کبھی اور کوئی نشہ کیا تو نہیں مگر
تری یاد میں مرا ڈولنا، نہیں بھولنا
مجھے اپنا کہنا وہ باتوں باتوں میں بھول سے
ترا رَس وہ کانوں میں گھولنا، نہیں بھولنا
ترا سارا شہر مِرے خلاف کھڑا تھا پر
مِرے حق میں اک ترا بولنا، نہیں بھولنا!
تِرا اک نظر مجھے دیکھنا وہی پیار سے
ہے مجھے قسم مرے ڈھولنا، نہیں بھولنا

زین شکیل