زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا

تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا
یہ محبت ہے کنارا تو نہیں ہو سکتا
دور ہونے سے محبت تو نہیں مر جاتی
پاس رہنا کوئی چارہ تو نہیں ہو سکتا
گرد چہرے پہ مسافت کی بھی ہو سکتی ہے
اب میں ہر کھیل میں ہارا تو نہیں ہو سکتا
میرے جیتے بھی تمہارا جو نہیں ہو پایا
میرے مرنے پہ تمہارا تو نہیں ہو سکتا
تو نے اس شہر کے آداب تو سیکھے لیکن
یوں مِری جان گزارا تو نہیں ہو سکتا
دل کو یہ کہہ کے دلاسہ میں دیے جاتا ہوں
ہر کوئی شخص ہمارا تو نہیں ہو سکتا

زین شکیل