یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں
اس طرح آپ کے پیغام نکل آتے ہیں
کیا کروں ذہن کہیں اور لگاؤں پھر بھی
خود بخود آپ کے اوہام نکل آتے ہیں
جب بھی وہ پیار سے لیتا ہے مرا نام کبھی
لوگ پھر کیوں مرے ہم نام نکل آتے ہیں
وہ جو منہ پھیر کے ہر روز چلا جاتا ہے
اُس کو پھر مجھ سے کئی کام نکل آتے ہیں
ذات کی قید میں اک عمر انہیں رکھتا ہوں
پھر بھی جذبے کئی بے نام نکل آتے ہیں
زین شکیل