یوں کہانی تو سنانی نہیں آتی مجھ کو
کیا کروں بات گھمانی نہیں آتی مجھ کو
کر دیا کرتے ہیں آنسو مرے غم کو ظاہر
اک نشانی بھی چھپانی نہیں آتی مجھ کو
عشق کرتب تو نہیں ہے مِرے معصوم صِفَت
جھیل میں آگ لگانی نہیں آتی مجھ کو
تم بھی اب دن میں ملاقات کی زحمت کرنا
چاندنی رات چرانی نہیں آتی مجھ کو
اپنی جانب تجھے کس ڈھب سے کروں گا مائل
اک توجہ بھی دلانی نہیں آتی مجھ کو
وہ جو پہلے بھی بتاتے ہوئے دل ڈرتا تھا
اب بھی وہ بات بتانی نہیں آتی مجھ کو
دن نکلنے کو ہے سو جاؤ خدارا اب تو
کوئی پریوں کی کہانی نہیں آتی مجھ کو
زین شکیل