زہرا نگاہ اردو کی ممتاز اور باوقار شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہے اور وہ 14 مئی 1936ء کو حیدرآباد دکن (برطانوی ہندوستان) میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں ادب، زبان اور اظہار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی بہن فاطمہ ثریا بجیا معروف ادیبہ تھیں جبکہ بھائی انور مقصود اردو کے نامور مزاح نگار، دانشور اور ٹیلی وژن شخصیت ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہو گئیں، جہاں ان کی ادبی شناخت نے باقاعدہ شکل اختیار کی۔
زہرا نگاہ کی تعلیم باقاعدہ تعلیمی اداروں کے بجائے گھریلو اور نجی اساتذہ کے زیرِ نگرانی ہوئی۔ کم عمری ہی سے انہیں اردو زبان، کلاسیکی شاعری اور عروض سے گہری واقفیت حاصل ہو گئی تھی۔ انہوں نے بچپن میں ہی شاعری کا آغاز کر دیا اور نوعمری میں مشاعروں میں اپنا کلام سنانے لگیں، جہاں ان کی سنجیدہ، شائستہ اور باوقار آواز نے فوراً توجہ حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ بنیادی طور پر شاعرہ رہیں، تاہم انہوں نے ٹیلی وژن اور فلم کے لیے نغمہ نگاری اور اسکرپٹ نویسی بھی کی، اگرچہ ان کی اصل پہچان اور زندگی کا محور شاعری ہی رہی۔
زہرا نگاہ کی شاعری میں نسائی شعور، انسانی جذبات، سماجی حقیقتیں، محبت، کرب اور وقار نمایاں عناصر ہیں۔ وہ ان اولین شاعراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے مردانہ غلبے والے مشاعروں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں “شام کا پہلا تارا”، “ورق”، “فراق” اور “گُل چاندنی” شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا، جبکہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کا علامہ اقبال ایوارڈ اور UBL لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی انہیں عطا کیے گئے۔ زہرا نگاہ آج اردو ادب میں ایک ایسی معتبر آواز کے طور پر جانی جاتی ہیں جس نے شاعری کو وقار، تہذیب اور فکری گہرائی عطا کی۔