صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
داغ دل خراب سے رات میں روشنی رہی
تیرے سبھی کلاہ پوش کوہ غرور سے گرے
اپنی تو ترک سر کے بعد عشق میں برتری رہی
ساتویں آسمان تک شعلۂ علم و عقل تھا
پھر بھی زمین اہل دل کیسی ہری بھری رہی
آپ ہوا ہے مندمل گل نے بہار کی نہیں
شہرت دست چارہ گر زخم ہی ڈھونڈھتی رہی
کہتے ہیں ہر ادب میں ہے ایک صدائے بازگشت
میرؔ کے حسن شعر سے میری غزل سجی رہی
زہرا نگاہ