تعارف
آج آپ کو بے تکلفات کا اظہار کرنے والے ناتواں لیکن تمام دنیا سے لڑ جانے والے سرکش عاشق'فلسفہ پہ گہری نظر رکھنے والے اور خودار شاعر سے متعارف کرواتے ہیں۔ آپ کی شاعری موضوع انسانی کے جزبات اور نفسیاتی کیفیات کو احساس کی شدت کے ساتھ قاری تک منتقل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ آپ 6 اکتوبر 1986 کو گوجرانوالہ کینٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو چھوٹی بحر پر ملکہ حاصل ہے۔وہ متاع جاں سے شکوہ ہو'رقیب سے نوک جھونک ہو۔ ارباب اختیار سے کوئی تقاضا یا کوئی سلگتا ہوا،جھنجوڑتا ہوا معاشرے کا کالا سچ ہو، آپ کا سخن اسے منظر عام پہ لانے سے نہیں رکتا۔ قلزؔم صاحب نے اپنے طور پر تاریخ کی تمام حسیناؤں سے ان کے عاشقوں کا بدلہ لیا،جن کے دل انہوں نے توڑے۔ قلزؔم صاحب کی شاعری عام فہم۔سادہ شائستہ اور زندگی کے تمام نشیب و فراز کا احاطہ کرتی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ جناب قلزؔم صاحب کے عہد میں زندہ ہیں
منتخب اشعار
اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن
اوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن
ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے
آ مرے پاس ایک رستہ ہے
کلام
- 01 بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال Bataayen husn us ka kya jamal hi jamal
- 02 مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں Mat kahin phir se ke tumhare hain
- 03 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan آواز میں دستیاب
- 04 ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے Hijr ki sakhtiyon se bachna hai آواز میں دستیاب
- 05 ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں Un ki girgit misaal dete hain آواز میں دستیاب
- 06 پڑھ کے دیکھو قرار ہے اردو Padh ke dekho qaraar hai Urdu آواز میں دستیاب