اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن
اوڑلی پھر یہ میں نے ردائے سخن
چاہتا تھا مجھے لوگ شاعر کہیں
اس کی دہلیز سے پھر اٹھائے سخن
اس نے آنچل کو لہرایا ہے پھر ضرور
دیکھیے تو چلی ہے ہوائے سخن
جیسے کوئی حسیں ناز سے بیٹھتی
ایسے پہلو میں اپنے بٹھائے سخن
کیا بتاؤں میں کیسے خدوخال ہیں
اس کی زلفوں پہ سارے لٹائے سخن
اس کی آواز ایسی مرے دوستا
ہر سخن کر رہا التجائے سخن
جس کسی کی میں امید تھا معذرت
کچھ نہیں کر سکا میں سوائے سخن
جب کسی طور بھی یار مانا نہیں
باندھ پیروں میں گھنگرو نچائے سخن
جس پہ فتویٰ لگا تھا اسی شعر پر
داد دینے کو آئے خدائے سخن
وہ نہیں گنگناتا سخن کوئی بھی
دیکھ کر اس کو تو گنگنائے سخن
مفلسی نے کیا حال ایسا مرا
تنگ آ کر سبھی بیچ کھائے سخن
اس نے پڑھ کر کیے شعر میرے امر
شاعروں نے بڑے آزمائے سخن
وصل کی رات تھی اور دیکھو زرا
صرف بستر پہ میں نے گرائے سخن
ہل کسی کی زمین پر چلایا نہیں
میں نے اپنی زمین پہ اگائے سخن
ایک شاعر سے اس کو محبت ہوئی
سارے کمرے میں اس نے لگائے سخن
ساری محفل کی نظریں اسی پر جمیں
اس نے پڑھ کر مرے جب سنائے سخن
کوئی قلزم کو کب جانتا تھا یہاں
آج جو کچھ بھی ہوں ہے عطائے سخن
زبیر قلزم