search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
زبیر قلزم
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ہجر کی سختیوں سے بچنا ہے
ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں
پڑھ کے دیکھو قرار ہے اردو
دوستوں میں شمار کس کا ہے
پھر محبت سے دل کو پکارا گیا
محبت پہ گزارا ہے مسلسل
بے خودی بے حساب کی میں نے
تم سمجھتے ہو سب زخم بھر جاتے ہیں
جب سے ہم مسکرانا بھول گئے
آج تھوڑا سا مسکرانے دے
سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا
نگاہ اس کی اگر عارفانہ ہے یارو
سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہوں
مفلسی بے حساب لایا ہوں
اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے
زندگی ایسے کھلے دل سے لٹائی میں نے
جو یہاں حق کی بات کر جائے
خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو
ہے دعا یہ سبھی کا بھلا خیر ہو
شوق اپنے سبھی نرالے ہیں
عشق سر پہ سوار تھا یارو
اپنے جنگل کا حال بدلا ہے
جب جنوں سارے اتر جائیں گے
جب کبھی دوست مہربان ہوئے
جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا
بہانے سے میں اسے حال دل بتا جاؤں
اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے
دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
کس کی آخر یہ انتطاری ہے
پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط
کیا یہاں مسئلے سناؤں گا
دشت ویران ہے ہوس مارا
یہ بہانہ نہیں با خدا عید ہے
گماں
شور اس کی گلی میں مچا پھر سہی
کیا کسی سے بھلا شکایت ہو
یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے
بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا
اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
میری آواز صدا سے خالی
یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا
آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں
میں زمینی میں آسمانی ہوں
عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے
بات بے بات غزل کہتے ہیں
چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں
زندگانی حسین ہے تو سہی
جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں
مجھ سے کہتے ہو کر حسین کی بات
کچھ اس طرح سے میں زندہ رہا تمہارے بعد
مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں
خود سے ہی مذاق کر گیا میں
قافیہ زندگی ہے سانس ردیف
میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی
حسن سالار کو زبان ملی
دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرے
جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر
آپ اتنا تو اپنا خسارہ کریں
ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے