فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا
کلام: حیدر علی آتش
فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑاخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا
قبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑابن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑاخدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا
قبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑابن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا
تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوستمثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست
چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگرحسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم
ساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہمرہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم