کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا
کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا
میں محبت میں شکایت بھی نہیں کر سکتا
ایک اک کر کے پرندوں نے تو ہجرت کر لی
پیڑ ہوں پیڑ تو ہجرت بھی نہیں کر سکتا
کیا مجھے سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہے
کیا میں اک اور محبت بھی نہیں کر سکتا
کیا زمانہ ہے کہ اس عہد زیاں میں کوئی شخص
اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتا
کون سا خوف رگ و پے میں سمایا ہے کہ اب
میں برائی کی مذمت بھی نہیں کر سکتا
اب کسی اشک کو کیا آنکھ میں رکھا جائے
اشک جو غم کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا
سامنا ہو تو زباں دل کا نہیں دیتی ساتھ
کچھ بتانے کی میں ہمت بھی نہیں کر سکتا
سانحہ یہ ہے اسے مجھ سے جدا ہونا ہے
اور ستم یہ کہ میں رخصت بھی نہیں کر سکتا
اشرف یوسفی