خواب تو خواب ہیں
خواب تو خواب ہیں
ان پہ بندش نہیں
عقل کہتی رہے لاکھ کوشش کرو
ریگ زاروں میں پانی ابلتا نہیں
بت بناتے رہوآگ کے دوش پر
پنکھڑی سے سنو ہونٹ کی داستاں
نیلگوں حاشیوں سے سجاتے رہو
چشم حیرت کناں
لمس چھوئے بنا تو بہلتا نہیں
خواب تو خواب ہیں
شوق تعبیر میں کب سے
آنکھوں کی بستی میں رہتے ہیں یہ
جیسے ہی بستی چشم کے درمقفل ہوئے
جاگ جاتے ہیں یہ
پھر سے تقسیم کرتے ہیں پیکر وہی
پھر سجاتے ہیں اس کے ہر اک راز کو
ہم کو معلو م ہے تم بس اک خواب ہو
پھر بھی نہ جانے کیوں
میرا ایکانت مجھ سے یہ کہتا رہے
تم میرے پاس تھے تم میرے پاس ہو
خواب تو خواب ہیں
نا معلوم