اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
جل جل کے راکھ ہو گئے پھر بھی دھواں نہیں دیا
کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہل شوق کے
سارے دیے بجھا دیئے ازنِ فغاں نہیں دیا
ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو
ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا
پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں
اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا
کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر نہیں دیا
نطق تو کر دیا عطا ، حسن بیاں نہیں دیا
تخت پے بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گزار ہیں
رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تخت رواں نہیں دیا
اعتبارساجد