بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
مگر ہم اب وہ پہلے سے نہیں ہیں
وہی بے چین رکھتے ہیں زیادہ
ابھی تک حرف جو لکھے نہیں ہیں
ہے مٹی سے جڑے رہنا ضروری
خلا میں پھول تو کھلتے نہیں ہیں
لڑائی لڑ رہے ہیں زندگی سے
تھکے تو ہیں مگر ہارے نہیں ہیں
یہ دریا خشک ہے ایسا نہیں بس
کسی کے سامنے روتے نہیں ہیں
سمجھ میں آ گئی جس روز دنیا
اسی دن سے تو دنیا کے نہیں ہیں
کہ بے ترتیب بھی رہنے دیا کر
یہ گھر ہیں آئنہ خانے نہیں ہیں
عشرت آفریں