دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
آج مجھے احساس ہوا ہے، اپنی شکستہ پائی کا
دیکھ کے مجھ کو دنیا والے کہنے لگے ہیں دیوانہ
آج وہاں ہے عشق جہاں کچھ خوف نہیں رسوائی کا
چھوڑ دے رسمِ خودنگہی کو، توڑ دے اپنا آئینہ
ختم کیے دیتا ہے ظالم، روپ تری انگڑائی کا
میں نے ضیا جو حسن کو بخشی، اس کا تو کوئی ذکر نہیں
لیکن گھر گھر میں چرچا ہے آج تری رعنائی کا
اہلِ ہوس اب پچھتاتے ہیں ڈوب کے بحرِ غم میں شکیلؔ
پہلے نہ تھا ان بے چاروں کو اندازہ گہرائی کا
شکیل بدیوانی