سید جینٹلمین

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے

جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
میرا خیال ہے کہ وہ انسان بن گئے
ہم حشر میں گئےتھے مگر کچھ نہ پوچھئے
وہ جان بوجھ کر وہاں انجان بن گئے
ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے ارباب_ آگہی
ہم آپ کے مزاج کی پہچان بن گئے
منجدھار تک پہنچنا تو ہمّت کی بات تھی
ساحل کے آس پاس ہی طوفان بن گئے
انسانیت کی بات تو اتنی ہے شیخ جی
بد قسمتی سے آپ بھی انسان بن گئے
کانٹے بہت تھے دامن_ فطرت میں اے عدم
کچھ پھول اور کچھ میرے ارمان بن گئے

عبدالحمیدعدم