کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
ہنستا ہے تو ہنستے رہتا ہے روتا ہے تو روتے جاتا ہے
نغموں کی ہر اک جا شہرت ہے نالوں کا تمام افسانہ ہے
جس باغ میں ہم جا پہنچے ہیں پھولوں نے ہمیں پہچانا ہے
سنتے ہیں وفا کے رستے میں منزل نہ مسافر خانہ ہے؟
کیا جانے کہاں تک پہنچے ہیں کیا جانے کہاں تک جانا ہے
زنجیر جنوں کا تحفہ ہے، زنجیر سے کیا گبھرانا ہے
ہم ہاتھ بڑھائے بیٹھے ہیں پہنا دے جسے پہنانا ہے
پہلو میں ہمارے کیسا دل پر تو قیامت بیت گئی
مرجھایا ہوا اک غنچہ ہے ٹوٹا ہوا اک پیمانہ ہے
کلیم عاجز