search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
سید جینٹلمین
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
(15 جنوری 2026)
کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
(15 جنوری 2026)
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
(14 جنوری 2026)
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
(14 جنوری 2026)
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
(13 جنوری 2026)
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
(13 جنوری 2026)
مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
(12 جنوری 2026)
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
(09 جنوری 2026)
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
(09 جنوری 2026)
آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
(08 جنوری 2026)
ہمیں ملا نہ کبھی سوز زندگی سے فراغ
(08 جنوری 2026)
اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا
(07 جنوری 2026)
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
(06 جنوری 2026)
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو
(05 جنوری 2026)
خط جو نکلا بوسۂ رخسار آساں ہو گیا
(05 جنوری 2026)
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
(02 جنوری 2026)
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
(01 جنوری 2026)
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
(01 جنوری 2026)
پرانے محلے کا سنسان آنگن
(30 دسمبر 2025)
بظاہر ٹوٹ کر بکھرے نہیں ہیں
(30 دسمبر 2025)
آگ پانی میں فروزاں دیکھو
(30 دسمبر 2025)
ماہیت
(14 دسمبر 2025)
جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
(12 دسمبر 2025)
وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
(12 دسمبر 2025)
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
(11 دسمبر 2025)
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
(11 دسمبر 2025)
آخری بار ملو
(10 دسمبر 2025)
تجدید
(10 دسمبر 2025)
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
(09 دسمبر 2025)
جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
(09 دسمبر 2025)
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
(08 دسمبر 2025)
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
(08 دسمبر 2025)
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
(06 دسمبر 2025)
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
(06 دسمبر 2025)
آئی ہے میری سمت صدا ور دور سے
(05 دسمبر 2025)
برق کلیسا
(04 دسمبر 2025)
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
(04 دسمبر 2025)
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
(04 دسمبر 2025)
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
(03 دسمبر 2025)
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
(03 دسمبر 2025)
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
(02 دسمبر 2025)
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
(01 دسمبر 2025)
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
(01 دسمبر 2025)
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
(30 نومبر 2025)
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
(30 نومبر 2025)
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
(30 نومبر 2025)
تیری یاد وچ سجناں کی دساں
(29 نومبر 2025)
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
(28 نومبر 2025)
مرحلہ رات کا جب آئے گا
(28 نومبر 2025)
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
(27 نومبر 2025)
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
(27 نومبر 2025)
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
(26 نومبر 2025)
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
(26 نومبر 2025)
مری مستی کے افسانے رہیں گے
(25 نومبر 2025)
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
(25 نومبر 2025)
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
(25 نومبر 2025)
بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
(24 نومبر 2025)
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
(23 نومبر 2025)
دوستوں کے نام یاد آنے لگے
(23 نومبر 2025)
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
(22 نومبر 2025)
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
(22 نومبر 2025)
بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
(20 نومبر 2025)
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
(20 نومبر 2025)