سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
ادھر ہی اتفاقاً پھرتے پھرتے میں بھی جا نکلا
مرے دل کو جو تو ہر دم بھلا اتنا ٹٹولے ہے
تصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا
میں اپنا حال کہہ سارا جو پوچھا وعدہ آنے کا
کہا سن سن کے سب باتوں کو آخر مدعا نکلا
مری تعریف کی تھی اس سے بعضوں نے سو وہ سن کر
لگا کہنے جو سنتے تھے وہ اپنا آشنا نکلا
ملے ہے دردؔ اس کے ساتھ تو دیکھا غریبی ہے
گھمنڈ اس کے جو تھا جی میں سو اب شاید گیا نکلا
خواجہ میر درد