سید جینٹلمین

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے

وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
بے ہمتا ہے بے پروا ہے
دور بسا اور ساتھ رہا ہے
اجلی دُھوپ ۔۔۔گھنا سایا ہے
یوں تو کس کو چاہ نہیں ہے
اس ساگر کی تھاہ نہیں ہے
میں تو بس اتنا ہی جانوں
جب بھی اس کا نام لیا ہے
اس نے بڑھ کر تھام لیا ہے
گیت مرے ، آہنگ اس کا ہے
چیزی میری ، رنگ اس کا ہے
ان جانی من مانی گلیوں
میرے سنگ تو سنگ اس کا ہے
ایک دئیے کی لٙو سے میں نے
جگ مگ کالی راتیں کی ہیں
پچھلے پہر کے سناٹوں نے
آکر اس کی باتیں کی ہیں
سورج کی پہلی کرنوں نے
آنکھ میں اس کی چھب دیکھی ہے
دل میں اس کی چاپ سنی ہے
آس نر اس کے سارے بندھن
آنکھ کا آنسو دھیان کا چندن
خوشیوں کے سب محل دو محلے
زخموں کے سب گہنے گجرے
میں نے اس کو سونپ دیئے ہیں

ادا جعفری