اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
نہ ان اندھیروں میں ہاتھ تم سے کوئی ملائے تو مجھ سے کہنا
مجھے یقیں ہے کہ مجھ سے بڑھ کر تمہیں کسی نے نہیں ہے چاہا
مری طرح سے کوئی تمہیں جب گلے لگائے تو مجھ سے کہنا
یہ بن سنور کر جو تم نے ماتھے پہ ایک جھومر سجا لیا ہے
مگر سجایا تھا جیسا میں نے کوئی سجائے تو مجھ سے کہنا
محبتوں میں عذاب لگتا ہے ہجر لیکن نہیں ہے ایسا
مگر نظر سے فراق تیری نظر ملائے تو مجھ سے کہنا
نہ ہر کسی پر یقین کرنا بغیر سوچے بغیر سمجھے
تمہیں کوئی بھی جو میرے بارے میں کچھ بتائے تو مجھ سے کہنا
میں تیری یادوں کی آخری حد میں نقش ایسے ہوا ہوں جاناں
خیال میرا تمہیں جو اک پل بھی بھول جائے تو مجھ سے کہنا
بہت کہا تھا یقین رکھنا کہ زین تم سے جدا نہیں ہے
اگر ذرا سا بھی میری باتوں میں فرق آئے تو مجھ سے کہنا
زین شکیل