یادرفتگان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی

‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی
کچھ خواب ابھی ادھورے ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں
کچھ قرض ابھی چکانے ہیں
اے عمر رواں انہیں ڈھونڈ کے لا
وہ لوگ جو ہم سے بچھڑ گئے
وہ سنگی ،ساتھی،بیلی ہمدم
زرا دیکھ کر آ کدھر گئے
جو ہمدم تھے جو پریتم تھے
دل کو جن کے روگ لگے
جن کے بنا جیون سوگ لگے
اے عمر رواں زرا رک تو سہی
ٹھہر ذرا دھیرے چل
زرا من کی پیاس بجھانے دے
کچھ خواب پورے ہو جانے دے
کچھ پیار کے گیت سنانے دے
بچھڑے ساجن کو آ جانے دے
اے عمر رواں زرا ٹھر تو سہی

امل خان