درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
رونے والوں کو بہر طور ہنسا کر رونا
درد کو بانٹنے آ جائیں یہ جھونکے سارے
یوں مرا نام ہواؤں کو بتا کر رونا
لوگ لے لے کے مرا نام ستائیں گے ناں
آنسوؤں کی کوئی تمہید بنا کر رونا
اوس بکھری ہوئی پھولوں پہ بھلی لگتی ہے
اپنی آنکھوں کو بھی راہوں میں بچھا کر رونا
کوئی بھی دردادھر سے نہ اُدھر ہو پائے
آنسوؤں کی ذرا ترتیب لگا کر رونا
لوگ ہر بات پہ محشر سا اُٹھا دیتے ہیں
تم کبھی حال نہ اوروں کو سنا کر رونا
ایسے تنہائی میں مت رو کے گنواؤ مجھ کو
میں جو آ جاؤں تو سینے سے لگا کر رونا
بھیجنا ہاتھ پرندوں کے، غموں کے نوحے
یوں مرا سوگ ہواؤں میں منا کر رونا
زینؔ اس واسطے ٹھہری نہیں حالت اپنی
ایک ہی شخص کو خوابوں میں بُلا کر رونا
زین شکیل