یادرفتگان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا

سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
مُشکل تھا کھیل کھیلنا، کھیلا نہیں گیا
ڈر تھا کہ موت راہ میں بیٹھی نہ ہو کہیں
میں زندگی کی سمت اکیلا نہیں گیا
آنکھوں کی پُتلیوں میں سمٹتے رہے نقوش
دل کے خلا میں خواب اُنڈیلا نہیں گیا
تو خاک عشق کر کے دکھائے گا اے دلا
تجھ سے تو ایک ہجر بھی جھیلا نہیں گیا
وہ موت کا کنواں، وہ تحیر کی سمفنی
یادوں سے بچپنے کا وہ میلہ نہیں گیا
اب تک ٹھنی ہوئی ہے مری کائنات سے
اب تک رُکا ہوا ہے جھمیلا، نہیں گیا
تخئیل کے حصول پہ عالم کی سیر کی
آزر ہماری جیب سے دھیلا نہیں گیا

دلاور علی آزر