یادرفتگان

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے

تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
دیکھنا یہ ہے کہ اے دل ترا کیا بنتا ہے
کاش وہ شخص بڑا ہو کے دِکھائے بھی کبھی
سامنے سب کے جو ہر وقت بڑا بنتا ہے
چھنتے چھنتے ہی نکلتے ہیں خد و خال نئے
بنتے بنتے ہی کوئی نقش سِوا بنتا ہے
لطف جب ہے کہ تجھے باپ کی شفقت ہو نصیب
ماں کے ہونٹوں پہ تو ہر لفظ دعا بنتا ہے
جن کے دیوار و در و بام ہوں آسیب زدہ
ان مکانوں سے مکینوں کا گِلہ بنتا ہے
ٹوٹتے رہتے ہیں اشکوں کے ستارے مجھ میں
میرے سینے میں ترا ہجر خلا بنتا ہے
کس کا اُسلوبِ سخن ہے ترے جیسا آزر
فخر کرتا ہے جو تو خود پہ ترا بنتا ہے

دلاور علی آزر