search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
ایم سعید
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
(15 جنوری 2026)
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
(15 جنوری 2026)
یہ دنیا ، یہ محفل
(14 جنوری 2026)
پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
(14 جنوری 2026)
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
(13 جنوری 2026)
وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
(09 جنوری 2026)
سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا
(09 جنوری 2026)
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
(06 جنوری 2026)
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
(05 جنوری 2026)
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
(05 جنوری 2026)
ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
(02 جنوری 2026)
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
(01 جنوری 2026)
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
(01 جنوری 2026)
دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
(30 دسمبر 2025)
شہر پر رات کا شباب اترے
(30 دسمبر 2025)
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
(30 دسمبر 2025)
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
(29 دسمبر 2025)
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
(29 دسمبر 2025)
آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
(28 دسمبر 2025)
بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
(28 دسمبر 2025)
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
(26 دسمبر 2025)
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
(26 دسمبر 2025)
خیال یکتا میں خواب اتنے
(26 دسمبر 2025)
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
(25 دسمبر 2025)
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
(25 دسمبر 2025)
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
(25 دسمبر 2025)
حسن کو بے حجاب ہونا تھا
(14 دسمبر 2025)
برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
(14 دسمبر 2025)
چھپ نہ سکے گی دل کی دھڑکن
(12 دسمبر 2025)
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
(11 دسمبر 2025)
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
(10 دسمبر 2025)
فگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے
(10 دسمبر 2025)
گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
(09 دسمبر 2025)
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
(09 دسمبر 2025)
پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
(08 دسمبر 2025)
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
(07 دسمبر 2025)
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
(07 دسمبر 2025)
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
(06 دسمبر 2025)
کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے
(06 دسمبر 2025)
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
(05 دسمبر 2025)
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
(05 دسمبر 2025)
شکوہ
(03 دسمبر 2025)
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
(02 دسمبر 2025)
درد منت کش دوا نہ ہوا
(02 دسمبر 2025)
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
(30 نومبر 2025)
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
(30 نومبر 2025)
صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
(28 نومبر 2025)
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
(27 نومبر 2025)
تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم
(27 نومبر 2025)
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
(26 نومبر 2025)