ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
اہل ساحل نے تمسخرمیں اڑانا چاہا
سامنا کرنے کی جرات ہی کہاں تھی تم نے
ہر حقیقت کے عوض تازہ فسانہ چاہا
اپنے ہی موجہ خوشبو سے رہا تو سرشار
نازش گل تجھے کیا کیا نہ بنانا چاہا
کیا قیامت ہے کہ تاراجئی گلشن کے عوض
تو نے اک اپنے نشیمن کو سجانا چاہا
میں نے ہر بار بھرم رکھا مسیحائی کا
تم نے ہر بار نیا زخم لگانا چاہا
اس لیے راندہ درگاہ رہے ہیں محسن
ہم نے ایثار کو معیار بنانا چاہا
محسن بھوپالی