وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
تمام عمر ہے اب یاد یار کا موسم
وہ کیا گیا ہے کہ اب خود پہ اعتبار نہیں
اسی کے دم سے تھا قول قرار کا موسم
یہ کس فضا میں گزرتے ہیں روزو شب یارو
نہ جبر کا ہے نہ یہ اختیار کا موسم
وہ بام و در تو ہمیں آج بھی بلاتے ہیں
ہمیں ہی راس نہیں کوئے یار کا موسم
گلوں کے کھلنے پہ ہی منحصر نہیں محسن
ملے وہ جس میں وہی ہے بہار کا موسم
محسن بھوپالی