زین شکیل

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا

دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا !
الزامِ بے وفائی کسی پر تو آئے گا !
جب تُم کُھلی کتاب ہو، پڑھتے رہیں گے لوگ !
بیری ہو گھر کے صحن میں، پَتھر تو آئے گا !
رویا ہوں اُن کی یاد میں، خود سے لِپٹ کے میں !
دِل کو مرے قرار، گھڑی بھر تو آئے گا !
لفظوں کو جوڑ توڑ کے اتنا بڑھا لیا !
میرا کلام غم کے برابر تو آئے گا !
آنکھوں سے دور رہنے کی تاکید کی تو تھی !
اِن میں اُتر گئے ہو ! سمندر تو آئے گا !
آوارگی میں گُم ہے ابھی دل تو کیا ہوا !
ٹوٹے گا کھا کے ٹھوکریں، پھر گھر تو آئے گا !
میرے ہزار کہنے پہ آئے نہ آئے زین !
لیکن وہ میری موت کا سُن کر تو آئے گا !

زین شکیل