زین شکیل

مقرر / سپیکر

تعارف انتخابِ کلام

جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض

جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض !
آج وہ بھی مجھے لگا ناراض !
سارے عالم میں بانٹ کر خوشیاں !
وہ مجھے کرنے آ گیا ! ناراض !
میں نے پوچھا کہ 'نیند' کیسی ہے ؟
اُس نے ہولے سے کہہ دیا ! 'ناراض !
وہ خدا تو نہیں کہ نفل پڑھوں !
میں نے اک شخص کر دیا ناراض !
ایک مَنَّت تھی ! بجھ گئی آخر !
اب ہے درگاہ سے دیا ناراض !
میں غبارِ نجف ہوں ! اے دنیا !
دھیان کر ! میں اگر ہوا ناراض !
مجھ سے حضرت علیؑ نے پوچھنا ہے !
زین ! کس نے تجھے کیا ناراض ؟

زین شکیل