شاعر

عبدالحمیدعدم

Abdul Hameed Adam

49
منتخب کلام
49
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

عبدالحمیدؔ عدم کا اصل نام عبدالحمید تھا، اُن کا تخلص “عدم” تھا اور وہ ۱۰ اپریل ۱۹۱۰ء کو ضلع گجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد ازاں وہ اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ، لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے تک پہنچے۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے ملٹری اکاونٹس ڈپارٹمنٹ میں کلرک کی حیثیت سے آغاز کیا بالآخر وہ ڈپٹی اسسٹنٹ کنٹرولر آف ملٹری اکاونٹس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور اپریل ۱۹۶۶ء میں ریٹائر ہوئے۔ زندگی کے سفر میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ مشرقِ وسطیٰ گئے، وہاں عراق میں قیام کے دوران اُن کی دوسری شادی بھی ہوئی جو بعد ازاں ختم ہو گئی۔
عدم کی شاعری سادگی، دردِ دل اور تنہائی کے رنگ سے شناسا ہے؛ اُنہوں نے غزل اور نظم دونوں میں گہری شگفتگی پیدا کی۔ وہ پروگریسو رائٹرز موومنٹ کے پس منظر سے وابستہ رہے ۔ ان کی شاعری میں عشق، مے، وجودی خلش اور صوفیانہ ملال ایک ساتھ ملتے ہیں ۔ مگر یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ معاشرتی محفلوں، شراب اور کبھی کبھار زندگی کی بےراہروی نے اُن کی ذاتی زندگی پر اثر ڈالا، اور بعض اوقات وہ محفلوں اور مے نوشی میں طویل قیام کے باعث زیرِ نظر رہے؛ اسی پیچیدہ ذاتی منظرنامے نے ان کے کلام کو ایک منفرد تلخی اور صداقت عطا کی
چند کم معلوم حقائق میں یہ بھی شامل ہے کہ عراق میں گزرا ہوا دور اور وہاں کی دوسری شادی کا تنازع بعد میں اُن کی زندگی پر اثر انداز ہوا، ان کی پہلی بیوی کا انتقال ۱۹۷۸/۷۹ کے قریب ہوا، اور بعض حوالوں کے مطابق اُن کے دفترانہ تقرریاں اور تعیناتیاں ۔ مثلاً راولپنڈی میں پوسٹنگ ۔ان کے ادبی موضوعات پر خاموش مگر گہرا اثر رکھتی رہیں۔آخرِ کار عدم کا دامنِ حیات ۱۰ مارچ ۱۹۸۱ء کو لاہور میں زمین بوس ہوا، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے

منتخب اشعار

اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام

رکھ دیا دانِشکَدہ، رِندوں نے مَیخانے کا نام

پورا کلام ‹

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا

ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا

پورا کلام ‹
  1. 01 اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام Is ko kehte hain achaanak hosh mein aane ka naam آواز میں دستیاب
  2. 02 ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا Aisa niaz-e-ishq ne saada bana diya آواز میں دستیاب
  3. 03 ایک نامقبول قربانی ہوں میں Ek na-maqbool qurbani hoon main آواز میں دستیاب
  4. 04 رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں Raqs karta hoon jaam peeta hoon آواز میں دستیاب
  5. 05 مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے Mujhe huzoor kuch aisa gumaan padta hai آواز میں دستیاب
  6. 06 دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر Dil hai badi khushi se use pamal kar آواز میں دستیاب