عبدالحمیدؔ عدم کا اصل نام عبدالحمید تھا، اُن کا تخلص “عدم” تھا اور وہ ۱۰ اپریل ۱۹۱۰ء کو ضلع گجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد ازاں وہ اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ، لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے تک پہنچے۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے ملٹری اکاونٹس ڈپارٹمنٹ میں کلرک کی حیثیت سے آغاز کیا بالآخر وہ ڈپٹی اسسٹنٹ کنٹرولر آف ملٹری اکاونٹس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور اپریل ۱۹۶۶ء میں ریٹائر ہوئے۔ زندگی کے سفر میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ مشرقِ وسطیٰ گئے، وہاں عراق میں قیام کے دوران اُن کی دوسری شادی بھی ہوئی جو بعد ازاں ختم ہو گئی۔
عدم کی شاعری سادگی، دردِ دل اور تنہائی کے رنگ سے شناسا ہے؛ اُنہوں نے غزل اور نظم دونوں میں گہری شگفتگی پیدا کی۔ وہ پروگریسو رائٹرز موومنٹ کے پس منظر سے وابستہ رہے ۔ ان کی شاعری میں عشق، مے، وجودی خلش اور صوفیانہ ملال ایک ساتھ ملتے ہیں ۔ مگر یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ معاشرتی محفلوں، شراب اور کبھی کبھار زندگی کی بےراہروی نے اُن کی ذاتی زندگی پر اثر ڈالا، اور بعض اوقات وہ محفلوں اور مے نوشی میں طویل قیام کے باعث زیرِ نظر رہے؛ اسی پیچیدہ ذاتی منظرنامے نے ان کے کلام کو ایک منفرد تلخی اور صداقت عطا کی
چند کم معلوم حقائق میں یہ بھی شامل ہے کہ عراق میں گزرا ہوا دور اور وہاں کی دوسری شادی کا تنازع بعد میں اُن کی زندگی پر اثر انداز ہوا، ان کی پہلی بیوی کا انتقال ۱۹۷۸/۷۹ کے قریب ہوا، اور بعض حوالوں کے مطابق اُن کے دفترانہ تقرریاں اور تعیناتیاں ۔ مثلاً راولپنڈی میں پوسٹنگ ۔ان کے ادبی موضوعات پر خاموش مگر گہرا اثر رکھتی رہیں۔آخرِ کار عدم کا دامنِ حیات ۱۰ مارچ ۱۹۸۱ء کو لاہور میں زمین بوس ہوا، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے