search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
عبدالحمیدعدم
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اِس کو کہتے ھیں اچانک ھوش میں آنے کا نام
ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا
ایک نامقبول قربانی ہوں میں
رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں
مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہے
دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر
اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
جنوں بیمار ہے، آہستہ بولو
دوستوں کے نام یاد آنے لگے
میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا
جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
دل کے معاملات میں سود و زیاں کی بات
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے
آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی
بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا
ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے
آگہی میں اک خلا موجود ہے
مے کدہ تھا چاندنی تھی میں نہ تھا
زخم دل کے اگر سیے ہوتے
کبھی اتنی زحمت تو فرمائیے گا
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیں
نشاط دل ہے یا تسکین جاں ہے
نظر اس نے جب برملا ڈال دی
فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں
خرد کی انتہا ہے اور میں ہوں
نہیں لطف ساقی کسی بات میں
کیوں رنگ اڑ رہا ہے دل بے قرار کا
ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا
کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست
عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
دیکھ کر دل کشی زمانے کی
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
زلف برہم سنبھال کر چلئے
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا
اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
مسکرا کر خطاب کرتے ہو
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
جب ترے نین مسکراتے ہیں
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا