search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
عدیم ہاشمی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر
کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے
ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے
اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے
آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا
کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا
راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے
سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ
کچھ ہجر کے موسم نے ستایا نہیں اتنا
جانے یہ کیسی تیرے ہجر میں ٹھانی دل نے
اداس شام دلِ سوگوار تنہائی
آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر
ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی
آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں
نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کر گیا
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلے
مل گئی آپ کو فرصت کیسے
اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا
کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے
جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی