زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔ
سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے
Zindagi se yahi gila hai mujhe
Tu bahut der se mila hai mujhe
Tu mohabbat se koi chaal to chal
Haar jaane ka hausla hai mujhe
Dil dhadakta nahin tapakta hai
Kal jo khwahish thi aabla hai mujhe
Humsafer chahiye hujoom nahin
Ek musafir bhi qafla hai mujhe
Kohkan ho ke Qais ho ke Farazؔ
Sab mein ek shakhs hi mila hai mujhe
ِاحمد فراز، اصل نام سید احمد شاہ، 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسید محمد شاہ برق خود استاد اور فارسی شاعر تھے،احمد فراز ابتدائی...
مکمل تعارف پڑھیں