احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے، بعد ازاں امریکا منتقل ہوگئے اور طویل عرصے سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ احمد مشتاق کا شمار اردو کے ان ممتاز جدید شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ناصر کاظمی، منیر نیازی، جون ایلیا اور احمد فراز جیسے اہم شعرا کے عہد میں اردو غزل کو ایک نیا اور منفرد آہنگ عطا کیا۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، اگرچہ انہوں نے نظمیں بھی کہیں، مگر ان کی اصل شناخت نرم لہجے، داخلی کرب، خاموش اداسی، محبت، ہجرت، یاد اور تنہائی کے شاعر کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ ان کی شاعری میں لفظوں کی کفایت، معنی کی گہرائی، دھیمی موسیقیت اور روزمرہ زندگی کے سادہ مگر مؤثر استعارے نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، اسی بنا پر انہیں کم گو مگر نہایت اثر انگیز شاعر کہا جاتا ہے۔
احمد مشتاق کی شاعری کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہونے کے باوجود جدید حسیت اور انفرادی تجربے کی ترجمان ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے مکمل وابستہ نہیں رہے بلکہ انسانی باطن، رشتوں کی شکست و ریخت، وقت کے کرب اور وجودی تنہائی کو نہایت لطیف اور علامتی انداز میں بیان کرتے رہے۔ ان کے اشعار میں شہر، شام، بارش، خواب، خاموشی اور یاد جیسے استعارے بار بار سامنے آتے ہیں اور یہی عناصر ان کی شاعری کو ایک منفرد جمالیاتی وقار عطا کرتے ہیں۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں گردِ ماہتاب اور مجموعہ شامل ہیں، جبکہ انہوں نے ناصر کاظمی کے حوالے سے ہجر کی رات کا ستارہ کے عنوان سے ایک اہم کتاب بھی تحریر کی۔ ان کا یہ شعر خاص طور پر زبان زدِ عام ہوا: “اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے” ان کی شاعری مشاعروں کے شور سے زیادہ سنجیدہ ادبی حلقوں اور جدید اردو قارئین میں مقبول رہی اور نقادوں کے مطابق انہوں نے اردو غزل میں “دھیمی اداسی” کو ایک مستقل جمالیاتی کیفیت کی صورت عطا کی۔
احمد مشتاق کی شخصیت نہایت گوشہ نشین، کم آمیز اور خودنمائی سے دور سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے ادبی شہرت کے باوجود میڈیا، تقریبات اور ادبی گروہ بندی سے ہمیشہ گریز کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کے انٹرویوز اور تصاویر نسبتاً کم دستیاب ہیں۔ وہ ظفر اقبال کے قریبی ادبی معاصرین میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی ملاقاتوں کا ذکر ادبی حلقوں میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ احمد مشتاق کی شاعری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شدید جذباتی کیفیت کے باوجود آواز کبھی بلند نہیں ہوتی بلکہ ایک دھیمی اداسی اور باطنی سکوت پورے فن پر حاوی رہتا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں مگر ان میں وقت، جدائی، ہجرت اور انسانی تنہائی کے گہرے فلسفیانہ اشارے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ امجد اسلام امجد نے ان کی شاعری کو فن اور زندگی کے تسلسل کی خوبصورت مثال قرار دیا، جبکہ آج بھی اردو کے نوجوان قارئین اور سوشل میڈیا کے ادبی حلقوں میں ان کے اشعار غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔