search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
اختر شیرانی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
مامتا
شملے کی ریل گاڑی
کہانی کا سماں
بی مینڈکی
چڑیوں کی شکایت
جگنو
نذر وطن
یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے
شملہ
ساون کی گھٹا
جھولا
کشمیر
بستی کی لڑکیوں کے نام
گجرات کی رات
سورج کی کرنوں کا گیت
لکھنؤ
ننھا قاصد
وقت کی قدر
یہ دنیا کتنی پیاری ہے
انگوٹھی
آنسو
ایک شاعرہ کی شادی پر
مجھے لے چل
برکھا رت
دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا
ایک لڑکی کا گیت
ایک حسن فروش سے
دریا کنارے چاندنی
ہماری زبان
بدنام ہو رہا ہوں
جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
بنارس
اے عشق کہیں لے چل
او دیس سے آنے والے بتا
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل
زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے
بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)
ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
گلزار جہاں میں گل کی طرح گو شاد ہیں ہم شاداب ہیں ہم
دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں
بجا کہ ہے پاس حشر ہم کو کریں گے پاس شباب پہلے
دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا
نہ ساز و مطرب نہ جام و ساقی نہ وہ بہار چمن ہے باقی
ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے
دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا
عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے
سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے
غم زمانہ نہیں اک عذاب ہے ساقی
نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی
یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں
وعدہ اس ماہرو کے آنے کا
غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور
مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں
خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے
جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو
آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم
کس کی آنکھوں کا لیے دل پہ اثر جاتے ہیں
مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں
یارو کوئے یار کی باتیں کریں
اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں
نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر
اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی
یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی
نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے
تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں
آشنا ہو کر تغافل آشنا کیوں ہو گئے
اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں
ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے
ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں
محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں
مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے
کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!
کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے
اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے