تعارف
امجد اسلام امجد اردو ادب کے اُن درخشاں ستاروں میں سے تھے جنہوں نے شاعری، نثر اور ڈرامہ نگاری میں یکساں شہرت حاصل کی۔ ۴ اگست ۱۹۴۴ کو لاہور میں پیدا ہونے والے امجد نے اپنی پوری زندگی اسی شہر کو مسکن بنایا۔ ابتدائی تعلیم اور گریجویشن گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے حاصل کی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انہوں نے تدریس سے کیا اور ایم اے او کالج لاہور میں لیکچرر رہے، بعد ازاں پی ٹی وی کے لیے شہرۂ آفاق ڈرامے تخلیق کیے اور اردو سائنس بورڈ سمیت مختلف ادبی و تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اپنے طویل ادبی سفر میں وہ تقریباً ستر کے قریب کتابوں کے خالق بنے اور انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز جیسے قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ ۱۰ فروری ۲۰۲۳ کو لاہور ہی میں ان کا انتقال ہوا، یوں اردو ادب ایک ہمہ جہت اور منفرد اسلوب رکھنے والے شاعر و ادیب سے محروم ہوگیا۔
منتخب اشعار
کہو تو لوٹ جاتے ہیں!
ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے
کلام
- 01 کہو تو لوٹ جاتے ہیں Kaho to lauṭ jaate haiñ! آواز میں دستیاب
- 02 جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے Jo utar ke zeenah-e-shaam se teri chashm-e-khush mein sama gaye آواز میں دستیاب
- 03 اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا Apne ghar ki khidki se main aasman ko dekhunga آواز میں دستیاب
- 04 تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی Tere Ird Gird Woh Shor Tha, Meri Baat Beech Mein Reh Gayi آواز میں دستیاب
- 05 ہَوا بُرد Hawa Burd آواز میں دستیاب
- 06 کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا Koi khwab dasht-e-firaq mein sar-e-sham chehra kusha hua آواز میں دستیاب