عرش صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں

خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
بڑھے نہ آگے در کوئے یار سے برسوں
چلی ہے اہل جنوں کی خدائے کعبہ سے
کہ اس دیار میں بھٹکے ہیں دل جلے برسوں
تیرے بغیر وہ بدلی زیست کہ ہم
اسیر حلقہ زنجیر غم رہے برسوں
بساطِ غم نہ اٹھائی حیات تیرہ نے
کچھ ایسے دور ہوئے ہم نہ مل سکے برسوں
گزر بہار کا ہوتا رہا ادھر لیکن
تہی حیات سے دامان گل رہے برسوں
رہے اک عمر اسیر خیال سود و زیان
بڑھا کئے من و منزل میں فاصلے برسوں
رہے جنوں ہی جہاں رہنمائے ہوش و خرد
میرے قریب نہ آئے وہ مرحلے برسوں
کبھی تو ان کا گزر ہو اس انتظار میں ہم
چراغ راہ بنے اور جلا کئے برسوں
انہی کے ساتھ گئی عرش روح بزم طرب
کٹے کٹے سے نظر آئے میکدے برسوں

عرش صدیقی