آرزو لکھنوی اردو کے اُن ہمہ جہت اور قدآور شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام سید انور حسین تھا اوروہ 16 فروری 1873ء کو لکھنؤ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر ذاکر حسین ‘یاس’ اور بھائی میر یوسف حسین ‘قیاس’ بھی نامور شعرا تھے، یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی۔ گھر پر عربی و فارسی کی تعلیم پائی اور کم عمری ہی میں شاعری شروع کر دی؛ یہاں تک کہ بارہ برس کی عمر میں مرثیہ کہنے لگے۔ ان کے استاد جلال لکھنوی تھے، جن کی وفات کے بعد دبستانِ لکھنؤ میں آرزو لکھنوی کو ان کا جانشین بھی تسلیم کیا گیا، جو ان کے فنی وقار اور شعری پختگی کا واضح ثبوت ہے۔
آرزو لکھنوی کی ادبی خدمات غیر معمولی وسعت رکھتی ہیں۔ انہوں نے غزل، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی، رباعی، نعت، سلام، نظم اور نثر سمیت تقریباً ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی اور کمال حاصل کیا۔ ان سے منسوب تقریباً پچیس ہزار غزلیں اردو شاعری کے سرمائے میں ان کے غیر معمولی فیضان کی علامت ہیں۔ ان کے اہم مجموعوں میں فغانِ آرزو، جہانِ آرزو، نشانِ آرزو، بیانِ آرزو، سریلی بانسری اور نظامِ اردو شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیات میں زبان کی سلاست، بیان کی سادگی، جذبے کی سچائی اور درد و محبت کا گہرا احساس شامل ہے، جس نے انہیں خواص کے ساتھ عوام میں بھی مقبول بنایا اور ان کی غزل کو دل سے دل تک پہنچایا۔
شاعری کے ساتھ ساتھ آرزو لکھنوی نے تھیٹر، ڈرامہ اور فلمی دنیا میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کلکتہ اور بمبئی میں ڈرامے لکھے اور ابتدائی ہندی فلموں کے لیے گیت و مکالمے تحریر کیے، جن میں اسٹریٹ سنگر، جوانی کی ریت، لگن، لالہ جی، روٹی اور پرایا دھن جیسی فلمیں شامل ہیں۔ 1942ء میں بمبئی قیام کے بعد فلمی صنعت سے وابستگی رہی، اور تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے جہاں ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے۔ 17 اپریل 1951ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔ اردو ادب میں ان کا مقام ایک ایسے شاعر کا ہے جو روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑا نظر آتا ہے؛ اسی لیے انہیں احتراماً “علامہ آرزو لکھنوی” بھی کہا جاتا ہے اور ان کی شاعری آج بھی اردو ادب کی تاریخ میں زندہ اور معتبر سمجھی جاتی ہے۔