آرزو لکھنوی

شاعر

تعارف شاعری

انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر

انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر
مسئلہ پیش ہوا، صبر وشکیبائی کا
رنگ یہ دیکھ کے یورپ کے مدبر گھبراۓ
جلد سامان کیا ، انجمن آرائی کا
بزم تہذیب میں پیدا ہوئی بے چینی سی
کچھ حماقت سے چلا زور ، نہ دانائی کا
آسٹریا نے بس اک بار بدل کر پہلو
مدعا فوت کیا انجمن آراہی کا
جرمنی منتظرِ وقت تھا اک مدت سے
اور سبب مل بھی گیا حوصلہ افزائی کا
آسٹریا سے کہا ۔۔ ہو نہ ہراساں دل میں
میں ترے حق میں ہوں مونسِ غم ِ تنہائی کا
جو شمس قہر میں ، جامے گر ہوا یوں باہر
فصل گل میں ہو جو عالم کسی سودائی کا
دفعتا چونک پڑا شاہد رعناۓ فرانس
چھٹ گیا ہاتھ سے آئینہ خود آراہی کا
دلبری بھول گئے ناز ونزاکت والے
آپڑا وقت جو ہاتھوں کی توانائی کا
لب جاں بخش سے برطانیہ کی آئی صدا
کہ یہی وقت ہے اندازِ مسیحائی کا
ٹالنے سے مگر آئی ہوئی آفت نہ ٹلی
ہوا انکار نصیحت کی پزیرائی کا
خاکِ برلن سے ہوۓ آگ کے شعلے وہ بلند
شفقی رنگ ہوا گنبدِ مینائی کا
امتحاں گاہ نظر آئی مہذب دنیا
ولولہ بڑھنے لگا معرکہ آرائی کا
سنگ و فولاد بنے ،قلب ،بنی آدم کے
خون جائز ہوا بھائی کے لیئے بھائی کا
نہ تو باقی ہے محبت ، مروت، نہ وفا
چشمہ آنکھوں سے ہوا دی شناسائی کا
ظالموں نے جو ،کَسی ، ظلم و تعدی پہ کمر
نہ کیا پاس حسینوں کی بھی رعنائی کا
پوپ صاحب کی بھی سنتا نہیں کوئی اب تو
وقت ہے پیش خدا ، ناصیہ فرسائی کا
آرزو خیر طلب ہم تو اسی کے ہوں گے
جس کو ہے پاس ، لحاظ اپنی دل آرائ کا

آرزو لکھنوی