آرزو لکھنوی

شاعر

تعارف شاعری

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا
جھجھکنا مرا ان کا پہچان جانا
نہ لہراتے آنسو نہ چاہت ٹپکتی
ادھر آنکھ ملنا ادھر جان جانا
وہ آنکھیں کٹیلی ہیں چتون نکیلی
یہ جانا بھی تو ہو کے انجان جانا
جو ایسا ہو کیا اس کو سمجھائے کوئی
سمجھنے سے پہلے مرا جان جانا
وہ چاہے تو پھر رات کو دن بنا دے
سکھا دے جو ان کو کہا مان جانا
کھلے آرزو وہ جو تم سے تو سمجھو
کہ اک اجنبی ایک انجان جانا

آرزو لکھنوی