search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
آرزو لکھنوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
آنکھ سے دل میں آنے والا
انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
کچھ دن کی رونق برسوں کا جینا
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا
جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
اپنے کو تیرے دھیان میں جس نے مٹا دیا
نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
وہ سر بام کب نہیں آتا
بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے