باقر مہدی — شاعر کی تصویر

باقر مہدی کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

باقر مہدی اردو کے معروف شاعر، نقاد، دانش ور اور جدید حسیت کے نمائندہ ادیب تھے، جنہوں نے اپنی بے باک فکر، خوددار مزاج اور غیر مصلحت پسند رویّے کے باعث اردو ادب میں منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 11 فروری 1927ء کو رُدولی، ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش میں ایک علمی اور زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رزم رودولوی خود شاعر تھے، اس لیے گھر کا ماحول ادبی ذوق سے آراستہ تھا، جبکہ والدہ کا انتقال ان کے بچپن ہی میں ہوگیا، جس نے ان کی شخصیت میں سنجیدگی، داخلی کرب اور حساسیت پیدا کی۔ ابتدائی تعلیم رُدولی میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بڑے علمی مراکز کا رخ کیا اور معاشیات میں ایم اے کیا، بعد ازاں انگریزی ادب میں بھی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ اگرچہ ان کی رسمی تعلیم معاشیات میں تھی، مگر اردو، فارسی اور ادبیات پر ان کی گہری نظر نے انہیں ایک ہمہ جہت علمی شخصیت بنا دیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقر مہدی نے مختلف شہروں میں جدوجہد کی اور بالآخر 1954ء میں بمبئی منتقل ہوئے، جہاں ان کی ادبی زندگی نے باقاعدہ صورت اختیار کی۔ ابتدائی ایام میں معاشی دشواریوں کے باعث انہوں نے ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کی، مگر جلد ہی اپنی علمی قابلیت، جرأتِ اظہار اور فکری انفرادیت کے سبب ادبی حلقوں میں ممتاز ہوگئے۔ وہ کسی ادبی گروہ بندی، مصلحتی حلقے یا سرکاری سرپرستی کا حصہ نہ بنے بلکہ ہمیشہ آزادانہ رائے کے قائل رہے۔ اسی آزاد مزاجی نے انہیں بعض حلقوں میں متنازع مگر سنجیدہ اہلِ ادب میں نہایت محترم بنا دیا۔ ان کی شخصیت سخت خودداری، اصول پسندی اور حق گوئی کی آئینہ دار تھی، اور وہ ادبی خوشامد یا رسمی تعلقات سے زیادہ فکری دیانت کو اہمیت دیتے تھے۔ 1975ء میں انہوں نے بمبئی سے ادبی رسالہ ’’اظہار‘‘ جاری کیا، جس نے جدید ادبی مباحث، تنقیدی مکالمے اور فکری آزادی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

باقر مہدی کی شاعری میں داخلی اضطراب، سماجی ناانصافی، انسانی تنہائی، سیاسی بے یقینی، تہذیبی زوال اور آزادیِ فکر جیسے موضوعات گہرے شعری شعور کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں اہم تخلیقی کام کیا، جبکہ تنقید میں بھی ان کا لہجہ نہایت جری، دوٹوک اور فکری اعتبار سے مضبوط تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں شہرِ آرزو، کالے کاغذ کی نظمیں اور ٹوٹے شیشے کی آخری نظم شامل ہیں، جبکہ نثری و تنقیدی کتابوں میں نیم رخ، آگہی و بے باکی، تنقیدی کشمکش اور شعری آگہی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ میر، غالب اور ترقی پسند تحریک پر ان کے مضامین بھی سنجیدہ تنقیدی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔ زندگی کے آخری زمانے میں علالت اور فالج کے باوجود ان کا علمی وقار قائم رہا۔ 23 ستمبر 2006ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، مگر وہ آج بھی اردو ادب میں ایک نڈر نقاد، باوقار مفکر اور منفرد شاعر کی حیثیت سے یاد کیے جاتے ہیں۔